اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عقل الباہلی نے کہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ ناقص ہونے کے باوجود سعودی عرب کے اندر بعض حقائق کو واضح کررہی ہے جبکہ حکومت نے اقوام متحدہ کے معائنہ کاروں کو الشرقیہ کے علاقے میں نہیں ہونے دیا ہے تا ہم ملک کے اندر انسانی حقوق کے شعبے میں کام کرنے والے کارکنوں نے بھی متعدد رپورٹیں تیار کرکے شائع کی ہیں جو حقائق سے پردہ اٹھارہی ہیں چنانچہ آل سعود کا یہ اقدام بھی بیہودہ ہی تھا۔انھوں نے کہا: آل سعود نے ہزاروں افراد اسیر کرلئے ہیں گو کہ یہ سارے افراد بہار عربی کے آغاز سے قبل گرفتار ہوئے ہیں اور کچھ لوگ القاعدہ کی سرگرمیوں کی بنا پر بھی گرفتار ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا: ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ سعودی عرب کے روزنامہ نویسوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی رپورٹوں سے تیار کی گئی ہے اور اس میں کوئی نئی بات دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ادھر مصر میں انسانی حقوق کے شعبے کے ایک سرگرم راہنما "محسن بَہَنسی" نے العالم کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود کا نظام جبر و تشدد اور عوام کو کچلنے، گرفتار کرنے اور فعال افراد کو ٹارچر کرنے جیسے اقدامات کے ذریعے اپنی ملت کے جائز مطالبات کا راستہ روکنے کی کوشش کررہا ہے اور مختلف اداروں کی جانب سے اس ملک ميں انسانی حقوق کی وسیع خلاف ورزی اور ایک خاص مذہب کے پیروکاروں کے ساتھ امتیازی سلوک کے سلسلے میں شائع ہوئی ہیں۔ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے شائع ہونے والی تازہ ترین رپورٹ آل سعود کے شہنشاہی نظام کی جانب سے عوام پر شدید مظالم اور عوام کو درپیش دشوار صورت حال کی غمازی کرتی ہے۔ انھوں نے کہا: آل سعود کے قلمرو میں عوام کی سرگرمیوں پر قدغن لگانے کا عمل ایک خاص مکتب کے پیروکاروں تک محدود نہیں ہے بلکہ سعودی معاشرے کے تمام طبقات رنج و عذاب کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ ..............
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کریں:
ــ عاشورائے حسینی کی آمد آمد؛ قطیف میں آل سعود کی فوجیں دوبارہ تعینات